تحریر: محمد شعیب سبحانی
حوزہ نیوز ایجنسی| خالق کائنات نے جب انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بناچاہا انسان بغیر ہدایت و تربیت خلیفہ خدا نہیں بن سکتا تھا تو خدا نے انسان کی ہدایت و تربیت اور تکمیل انسانیت کے لیے کتاب بیجھی اور محض یہ کتاب کافی نہ تھی بلکہ کتاب کے ساتھ مجسم ہدایت کی بھی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام اور آئمہ کو عطا فرمایا بس اسی الٰہی نظام ہدایت کا روشن ترین مظہر حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں پروردگار عالم نے آپ کی ولادت کا انجام بھی انوکھے طریقے سے کیا 13 رجب 30 عام الفیل کو جب ولادت کا قریب آیا تو جناب فاطمہ بنت اسد کسی سے کچھ کہے بغیر خانہ خدا کا رخ کیا آپ کے پاس کعبے کی چابی تو نہیں تھی کہ جس تالا کھول کر کعبے میں داخل ہو جائے لیکن آپ کعبے کے نزدیک آئی آپ کو آغوش میں لینے کو دیوار کے ھاتھ آگے یعنی دیوار کعبہ شگافتہ ہو گئی کعبے میں ولادت ہوئی کعبے میں علی علیہ السّلام کی ولادت کا ہونا علی علیہ السّلام کی فضیلت نہیں ہے بلکہ کعبے کی فضیلت بڑھ گئی مولا عباس علیہ السّلام اپنے خطبے میں فرماتے ہیں: آپ علیہ السلام نے یہ خطبہ امام حسین علیہ السلام کی ۸ ذی الحجہ سن ۶۰ ہجری کو مکہ سے کربلا روانگی کے موقع پر خانہ کعبہ کی چھت پر جلوہ افروز ہو کر ارشاد فرمایا: (حمد ہے اللہ کے لیے جس نے اسے کعبے کو میرے مولا امام حسین کے والد گرامی علی کے قدم سے شرف بخشا جو کہ کل تک پتھروں سے بنا ایک کمرہ تھا ان کی ولادت سے قبلہ ہو گیا۔)
بس آپ علیہ السّلام وہ ہستی ہے جو صرف ایک فرد ایک رہنما یا ایک حاکم نہیں، بلکہ پورے عالم انسانیت کے لیے خدا کا عطا کردہ تحفہ ہیں پوری انسانیت آپ کی عظمتوں کے سامنے سر تعظیم خم کرتی ہے سوائے ان لوگوں کے جو حقیقت سے ناواقف اور بصیرت سے محروم ہیں یہی وجہ ہے کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے مداحوں میں آپ کو صرف مسلمان ہی نظر نہیں آئیں گے بلکہ عیسائي اور دیگر ادیان کے پیروکار بھی ان کی مدح سرائی کرتے دکھائي دیتے ہیں صرف شیعہ ہی حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے قصیدہ نہیں پڑھتے ہیں اہل سنت بھی آپ کو دنیا کے ہر گوشے میں مل جائیں گے جن کو حضرت علی علیہ السلام سے خاص عقیدت ہے آخر اس کی وجہ کیا ہے وجہ اس آفاقی شخصیت کی عظمت ہے وہ عظمت جسے آپ کی زندگی میں اور شہادت کے بعد کئی صدیوں تک چھپانے کی کوششیں کی گئيں لیکن بھلا آفتاب کی روشنی کو چھپایا جا سکتا ہے آفتاب تو پھر آفتاب ہے ضو فشانی کرتا ہے ساری کائنات کو منور کر دیتا ہے کیا اس کا انکار بھی ممکن ہے۔
حتی آپ کے دشمنوں نے بھی اس کا اقرار کیا ہے معاویہ کے دربار میں کسی شخص نے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے سلسلے میں کوئي نا مناسب بات کہہ دی معاویہ کو غصہ آگيا اور اس نے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی مدح میں ایک جملہ کہا آپ کی شہادت کے بعد آپ کے اصحاب اگر کہیں معاویہ کو نظر آ جاتے تھے تو وہ ان سے کہتا تھا کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے سلسلے میں گفتگو کریں وہ لوگ فضائل بیان کرتے تھے روایت میں ہے کہ کبھی کبھی معاویہ پر گریہ طاری ہوجاتا تھا حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی حیرت انگیز خصوصیات اس انداز کی ہیں آپ سے معاویہ کی دشمنی ہر خاص و عام جانتا ہے اس سے سب آگاہ ہیں۔
علم میں برابری
مولا علی کا وجود ایک ایسا تحفہ ہے جو خدا نے انسانیت کو اس وقت عطا فرمایا جب انسان ظلم جہالت اور خود غرضی کی تاریکیوں میں گھرا ہوا تھا۔
رسولِ خدا کی اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مولا علی علیہ السّلام کے علم سے تمام انسان مستفید ہوئے۔
اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُهَا
یہ حدیث اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ علی کو عطا کرنا درحقیقت انسانیت کو علم شعور اور ہدایت کا دروازہ عطا کرنا ہے مولا علی کا عدل علم و حلم کسی خاص قوم مسلک یا زمانے تک محدود نہیں۔
عدل علی انسانیت کے لیے سب سے بڑا تحفہ
وہ معاشرہ جو عدل سے محروم ہو وہاں انسان صرف زندہ لاش بن جاتا ہے مولا علی نے عدل کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی نظام بنا کر دکھایا پیغمبر اسلام (ص) کے وصی اور خلیفہ کی حیثیت سے حضرت علی علیہ السلام کی ذمہ داری بھی یہی تھی اور آپ نے ایک لمحے کے لئے بھی کہیں کوئی پس وپیش نہیں کیا پرانے احباب ناراض ہو گئے بڑے فائدوں کی توقع رکھنے والے افراد چڑھ گئے آپ کے خلاف جنگ کے لئے کمربستہ ہو گئے جو لوگ کل تک آپ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے آپ کا عدل و انصاف دیکھا تو آپ کے دشمن ہو گئے۔
لیکن ملامت کرنے والوں کی ملامت کا حضرت امیر المومنین علیہ السلام پر کوئی اثر نہ ہوا آپ نے پامردی کے ساتھ فرائض کی ادائیگی جاری رکھی اور اسی راستے میں جام شہادت نوش فرمایا شدت عدل کی وجہ سے آپ کو شہید کردیا گیا۔
عدالت میں کسی مسلم غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں کرتا تھا۔
خلافت کے دور میں بیت المال کی مساوی تقسیم اپنے بھائی عقیل کو انکار اور قاضی کے سامنے عام شہری کی طرح پیش ہونا یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ علی کا عدل الٰہی عدل کا زمینی مظہر تھا۔
بلا تفریق خدمت خلق
آپ علیہ السّلام نے انسانوں کی خدمت میں کبھی عار محسوس نہیں کی بلکہ ہمہ وقت خلق کی خدمت کے لیے تیار اور حاضر ہوتے تھے یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا بیواؤں کے دروازے پر راشن پہنچانا اور اندھیری راتوں میں محتاجوں کے گھر جانا وہ مشہور واقعہ کہ جب امام کی شہادت ہوئی تو امام کو دفنانے کے بعد امام حسن و حسین گھر کی طرف ا رہے ہیں راستے میں کسی کے رونے کی اواز ائے جب امام حسن و حسین نے اس رونے والے سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا اج تین دن سے میں بھوکا ہوں ایک بندہ یہ خدا مجھے ہر روز کھانا کھلاتا تھا میری خدمت کرتا تھا مجھے تسلی دیتا تھا مجھے حوصلہ دیتا تھا اج تین دن سے وہ بندہ خدا نہیں ایا تو امام حسن نے پوچھا وہ کون تھا تو اس نے کہا مجھے اس کا نام نہیں معلوم تو کوئی نشانی ہے تو اس نے کہا ہاں جب وہ اتے تھے تو یہ در و دیوار بھی اس کے ساتھ تسبیح کرتی تھی تو امام حسن نے کہا وہ میرے والد امام علی علیہ السلام رھے۔
آخر میں یہ بات ضرور کہوں گا کہ اگر خدا انسان کو اندھیروں سے نکالنا چاہے تو اسے علی جیسا چراغ عطا کرتا ہے۔
اگر انسان کو عدل سکھانا ہو تو علی جیسا حاکم دیتا ہے۔
اگر انسان کو شعور دینا ہو تو علی جیسا معلم دیتا ہے۔
بلا شبہ مولا کائنات عالم انسانیت کے لیے الٰہی تحفہ ہے۔









آپ کا تبصرہ